Posts

بن کے سامع سنوں بیاں اپنا

مجھے بھی یاد ہیں وہ شامِ ہجر کی حکایتیں۔

عشق میں جی کو صبر و تاب کہاں

جب تصور میرا چپکے سے تجھے چھو آئے

محبت ایک پل بھی سکھ نہیں دیتی، کہا اُس نے

رات کی سیاہی یہ جدائی اور تیری یاد

لشکربھی تمہارا ھے سردار بھی تمہارا ھے

سنا ہے آج اس کی آنکھوں میں آنسوں

خط میں لکھے ہوئے رنجش کے پیام آتے ہیں

مَیں رت جگوں کو جھیل کے جب مِیؔر بن گیا

وہ کہتی ہے، ستارے آنسوؤں میں کیوں چمکتے ہیں؟

سَر اُٹھاؤں تو جان جاتی ہے

تیری گلیوں میں صدا دے کر گزر جائیں گے

صاحب آپ کا اتہاس کوچ عجیب لکھا جاۓ گا.

غریبوں کی طبیعت میں قناعت ڈال دیتا ہے

یہ فرض کرتے ہیں

شب بخیر زندگی

میرے جسم سے میری روح نکال دی اس نے

خدا عروج کو یوں بھی زوال دیتا ہے

تمہیں بھی خبر ہوگی

تُو نے کہا تھا عشق ڈھونگ ہے

ﺟﻮﻥ ﺍﯾﻠﯿﺎء

ہماری عادتیں خراب تهی ہیں اور رہیں گی

اپنے  دل  سے  نکال  کر مجھ  کو

ﺳﻨﻮ ﺟﺎﻧﺎﮞ!!!!___ ﻣﺠﮭﮯ ﻭﮦ

بڑی بے لگام سی ہو گئی ہیں میری آنکھیں

ہوئے بے بس ، مگر پھر بھی سدھر نہ پائے ہم

بھﺎﺭ ﺭُﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﺟﺎﮌ ﺭﺍﺳﺘﮯ

وہ میرے پاس سے گزرے تو یہ معلوم ہوا !!!! زندگی یوں بھی دبے پاؤں گزر جاتی ہے !!!!

غزل

ایک غزل محبتوں کے نام

سنو جو بھوک ہوتی ہے..

ﺍُﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮨﯽ ﻟﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ، ﮐﮧ.....

درد سے میرا دامن بھر دے، یا اللہ !

دل اپنا کہیں اور لگانا بھی نہیں تھا

محبت روشنی کو عکس میں زنجیر کرتی ہے

یہ تو سچ ہے کہ وہ کب کا مرا گھر چھوڑ گیا

Gham kisi ka zabt se bahar nikal kar aagay... Darde dil ab to meri aankhon me chal kar aagaya,,💔

کچھ نہیں بدلا دیوانے تھے دیوانے ہی رہے

نہ میں گرا نہ میری امیدوں کے مینار گرے

کبھی یاد آؤں تو پوچھنا..

نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا

عالم جہاں بعرضِ بساطِ وجود تھا

کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا

سراپا رہنِ عشق و ناگزیرِ الفتِ ہستی

بزمِ شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا

پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا

وہ میری چینِ جبیں سے غمِ پنہاں سمجھا

اقرار ہیں، ____انکار ہیں، ____پیمان ہیں آنکھیں ____!! جو قہر پہ____ آجائیں تو ____طوفان ہیں آنکھیں ___!!