دل اپنا کہیں اور لگانا بھی نہیں تھا

*غزل*

دل اپنا کہیں اور لگانا بھی نہیں تھا
پر تیرے علاوہ تو ٹھکانہ بھی نہیں تھا

ایسے میں بھی رکھّا تھا بھرم ہم نے وفا کا
جس وقت محبت کا زمانہ بھی نہیں تھا

بہتے ہُوئے اشکوں میں بھی ہونٹوں پہ ہنسی تھی
"جو میں نے چھپایا وہ بتانا بھی نہیں تھا"

اُس شہر میں کچھ روح کہ رشتے نکل آئے
جس شہر میں ہم کو کبھی جانا بھی نہیں تھا

وہ مانگ رہا تھا کہ محبت مجھے دیدے
اور ہاتھ میں میرے یہ خزانہ بھی نہیں تھا

کچھ اور بھی چہرے مری آنکھوں میں بسے تھے
اور شہر سے تیرے مجھے جانا بھی نہیں تھا

                                *ارشادانجم*

Comments