جب تصور میرا چپکے سے تجھے چھو آئے

جب  تصور میرا چپکے سے تجھے چھو آئے
اپنی ہر سانس سے مجھ کو تیری خوشبو آئے

مشغلہ ہے اب میرا چاند کو تکتے رہنا
رات بھر چین نہ مجھ کو کسی پہلو آئے

جب گردش دوراں نے ستایا مجھ کو
میری جانب تیرے پھیلے بازو آئے

جب بھی سوچا کہ شب ہجر نہ ہو گی روشن
مجھ کو سمجھانے تیری یاد کے جگنو آئے....!

Comments