غزل

*غزل*

جس قوم کے انساں پہ ہوں انسان مسلّط
اس قوم پہ کیونکر نہ ہو شیطان مسلّط

اولاد کو تم مغربی اطوار سکھا کر
کیوں خود پہ کیے موت کا سامان مسلّط

صدیوں سے جو روٹھے تھے بَھلا آج وہ کیونکر
گھر میں مرے بن کے ہوئے مہمان مسلّط

میں نعتِ نبی لکھنے کا خواہاں ہوں اذل سے
پر دل پہ ہواجاتا ہے شیطان مسلّط

بیچو گے ضمیر آج اگر چند ٹکوں میں
کیا ہونگے نہ سفّاك نگہبان مسلّط؟

بانٹیں گے یہ فرقوں میں ترے شہر کو ناظؔم
منبر پہ جو ہیں طفلِ دبستان مسلط

*ناظؔم ظفر*

Comments