بن کے سامع سنوں بیاں اپنا

بن کے سامع سنوں بیاں اپنا
مختصر اتنا اب جہاں اپنا

ہم کو رستے حسیں وہ لگتے اب
جن پہ منزل نہ کچھ مکاں اپنا

لوٹنا اس سفر سے کب ممکن
ہم سفر دل ہے بے تکاں اپنا

راہ بدلوں کیوں ایک ٹھوکر سے
حوصلہ ہے اجی چٹاں اپنا

اپنا اچھا نہ خود میں کر پایا
پھر کروں کس کو مہرباں اپنا

آج عمروں کے بعد سمجھا ہوں
تو نہیں تھا وہ تھا گماں اپنا

عشق میرا تلاش تھی اپنی
تو چھپاتا رہا نشاں اپنا

عہد رفتہ ہوا ہوں گو ابرک
لکھا اب بھی ہے پر جواں اپنا

................................اتباف ابرک

Comments