خدا عروج کو یوں بھی زوال دیتا ہے

خدا عروج کو یوں بھی زوال دیتا ہے
خوشی کے ساتھ ہی  رنج و ملال دیتا ہے

اگر چہ تشنگي صحرا میں ڈال دیتا ہے
چٹان سے بھی تو جھرنے نکال دیتا ہے

کبھی تو کشتی ڈبو دے وہ لا کے ساحل پر
کبھی بھنور سے سفينے نکال دیتا ہے

کبھی امیر کو کردے غریب پل بھر میں
کبھی فقیر کو کثرت سے مال دیتا ہے

بگاڑ کر کبھی صورت کسی تونگر کی
کسی غریب کو حسن و جمال دیتا ہے

Comments