اپنے دل سے نکال کر مجھ کو
تیرے ہونٹوں پہ سسکیاں کیوں ہیں
زخم دے کر وہ مجھ سے پوچھتا ہے،
تیرے لہجے میں تلخیاں کیوں ہیں
اپنے دل سے نکال کر مجھ کو
تیرے ہونٹوں پہ سسکیاں کیوں ہیں
زخم دے کر وہ مجھ سے پوچھتا ہے،
تیرے لہجے میں تلخیاں کیوں ہیں
Comments
Post a Comment