عشق میں جی کو صبر و تاب کہاں

عشق میں جی کو صبر و تاب کہاں
اس سے آنکھیں لگیں تو خواب کہاں
٭
نشہ جاں کی وہ شراب کہاں
اب وہ دورِ خواب و خیال کہاں

ہم کو بھی کچھ سُراغ دے اے دل
تُو ہوا تھا بھلا خراب کہاں

حرفِ سوزاں سے لب محروم ہوئے
دلِ معنی کا اِضطراب کہاں

رسدِ رنگ دل کی بند ہوئی
سرِ مژگاں وہ خونِ ناب کہاں

شہر کوچے سبا کے ہیں ویران
گئی بلقیسِ خوش رکاب کہاں

دلِ نازک کا چاہیے ہے پتا
بوجھ ڈھوتے ہیں ، آنجناب کہاں

ہوں رواں سوئے آخرِ دنیا
دَم گزاری کی مجھ میں تاب کہاں

مست اُس آستاں کے تھے ہم تو
ہم کو ہونا تھا باریاب کہاں

شور وفریاد اُس گلی میں نہیں
گئے وہ خانماں خراب کہاں

کیا ہوئے دن وہ دشت گردی کے
تشنگی ہے کہاں سراب کہاں ؟

ہو گئے ہیں اِک اور شخص کے ہم
مگر اُس شخص کا جواب کہاں

جون ایلیا

Comments