Posts

لمس کی آنچ پہ جذبوں نے اُبالی چائے

کیسے کہوں کہ اس دل کے لئے کتنے خاص ھو تم

دل کرتا ہے ہر وقت .............تیرے صدقے اُتاروں

چھپا لوں تجھکو اس قدر بانہوں میں

تم محبت بھی موسم کی طرح نبھاتے ہو

تمہارے پاس سونے کی جگہ نہیں ہے کیا؟؟؟ جو روز؛روز میرے خوابوں میں آ جاتی ہو

مجهے چوم کر__مجهے تهام کر__میری شدتوں میں قیام کر اے دلربا__نازک ادا__تجھ پر فدا__اک شب تو میرے نام کر

وہ کالی رات میں جگنو چمکتے بھیج دیتے ہیں

مدت کے بعد اس نے جو آواز دی مجھے..!! قدموں کی کیا بساط تھی سانسیں بھی رک گئیں..!!💔

خیالِ یار میں مجھ کو یونہی مدہوش رہنے دو

دل حسن کے شعلوں سے جلا کیوں نہیں دیتے

فقیروں کی ندا سن کر تو نگر کانپ جاتا ہے

اکیلا پن ستاتا ہے تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں

‏" تم قافلے 'بہاروں' کے کچھ دیر 'روک' لو .!! آتے ہیں ہم بھی 'پاؤں' سے 'کانٹے' نکال کے...

ابھی بھی منتظر ہوں میں، ابھی بھی تیری خواہش ہے یہاں کچھ بھی نہیں بدلا روایت پہلے جیسی ہے

شـــوق کـــلام لـــےگـیــــامــــوسٰـــــی کـــوطــــورپــــر میـــں کتــــنـابــــد نصیـــبـــــــ ہـــــوں مسجــــــــدنـہ جـــاســـکا

بڑی مشکل سے وعدہ نبھایا جا تا ہے

بانسری میں سانس پھونکی شکل دی آواز کو اور  سارا دکھ  ہواوں کے حوالے کر دیا

مجاہد آزادی و لاجواب شاعر مولانا محمد علی جوہر صاحب کا یوم وفات

نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں

نقاب کیا چھپائیگا شباب حسن کو نگاہ عشق تو پتھر بھی چیر دیتی ہے

مجھے اسکا غم نهیں کہ بدل گیا زمانہ

بہاروں کی نظر میں وہ کبھی مہنگا نہیں رہتا

دل بد صنم کی دید کے لئےبیتاب تھا کم بخت زلفیں کیا گری آڑ بن گییں

نہ خنـجـــــــــر سے پوچــــــھ ،نہ تلـــــــــــوار سے پوچــــــــــھ میـــــرا قتل کیســــــــے ہوا میرے یـــــــــار سے پوچــــــــھ

برباد کر دیتی ہے محبت ہر عشق کرنے والے کو

عمل سے بھی مانگا وفا سے بھی مانگا

تمھاری ناراضگی کے ڈر سے میں جو ہر بات مان لیتا ہوں

پھولوں سے بدن ان کے کانٹے ہیں زبانوں میں

بہت خودغرض دنیا ھے زرا سنبھل کے چلنا___! __!

وہی بے بسی، وہی بندشیں، وہی الجھنیں اے زندگی

دیتا ہوں تم کو خشکیِ مژگاں کی میں دعا

چاند کے ساتھ کئی درد پرانے نکلے

ہے گل کے لیے رنگت، رنگت کے لیے پردہ

سلام اس پر کہ جس نے بے کسوں کی دستگیری کی

ﺑﺴﻤﻞ ﮐﺎ ﺧُﺪﺍ ﺣﺎﻓﻆ، ﻗﺎﺗﻞ ﮐﺎ ﺧُﺪﺍ ﺣﺎﻓﻆ

یہ رستے میں کس سے ملاقات کر لی

امیرِ شہر سے مل کر سزائیں ملتی ہیں

کھلا یہ  راز کہ یہ  زندگی  بھی  ہوتی ہے

عزیز تر مجھے رکھتا تھا وہ رگ جاں سے

اُس نے ماں باپ کا چپ چاپ کہا مان لیا میں تو سمجھا تھا کہ پنکھے سے لٹک جائے گی

وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ