Posts

غزل

ایک غزل محبتوں کے نام

سنو جو بھوک ہوتی ہے..

ﺍُﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮨﯽ ﻟﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ، ﮐﮧ.....

درد سے میرا دامن بھر دے، یا اللہ !

دل اپنا کہیں اور لگانا بھی نہیں تھا

محبت روشنی کو عکس میں زنجیر کرتی ہے

یہ تو سچ ہے کہ وہ کب کا مرا گھر چھوڑ گیا

Gham kisi ka zabt se bahar nikal kar aagay... Darde dil ab to meri aankhon me chal kar aagaya,,💔

کچھ نہیں بدلا دیوانے تھے دیوانے ہی رہے

نہ میں گرا نہ میری امیدوں کے مینار گرے

کبھی یاد آؤں تو پوچھنا..

نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا

عالم جہاں بعرضِ بساطِ وجود تھا

کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا

سراپا رہنِ عشق و ناگزیرِ الفتِ ہستی

بزمِ شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا

پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا

وہ میری چینِ جبیں سے غمِ پنہاں سمجھا

اقرار ہیں، ____انکار ہیں، ____پیمان ہیں آنکھیں ____!! جو قہر پہ____ آجائیں تو ____طوفان ہیں آنکھیں ___!!

*میرا گاؤں... گاؤں...*

تجاہل تغافل تساہل کیا ہوا کام مشکل توکل کیا

مجھے جو آنکھ سے اوجھل دکھائی دیتا ہے

’’آج پھر شام ڈھلے‘‘

تُم نے بھی ٹھکرا ہی دیا ہے دُنیا سے بھی دُور ہوُئے

سجدوں سے تیرے کیا ہوا صدیاں گزار دیا

ﻧﯿﺎ ﺍﮎ ﺭﺷﺘﮧ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﺮﯾﮟ ﮨﻢ.

نقش اپنا مٹا لیا میں نے

پوچھا موسم بدلتے ہیں کیسے

ﺑﮩﺖ ﺁﺳﺎﻥ ﮨﮯ ﮐَﮩﻨﺎ

دھوکہ کھانے والوں کو تو وقت کے ساتھ ساتھ سکون مل جاتا ہے

غم اتنے ملے پھر بھی میں بیمار نہیں ہوں خوش ہوں کہ کسی غم سے بھی بیزار نہیں ہوں