غریبوں کی طبیعت میں قناعت ڈال دیتا ہے

غریبوں کی طبیعت میں قناعت ڈال دیتا ہے
وہ ناکامی کے نقشوں میں بھی عزت ڈال دیتا ہے

کوئی تو لقمۂ تر کو زباں پر رکھ نہیں پاتا
کسی کے خشک ٹکڑوں مییں وہ لذت ڈال دیتا ہے

کبھی دریا کی لہروں سے نئی راہیں بناتا ہے
کبھی دریا کی موجوں میں ہلاکت ڈال دیتا ہے

دہکتی آگ پہنچاتی ہے ٹھنڈک حکم سے اس کے
جہنم میں بھی گویا وصفِ جنت ڈال دیتاہے

وہ پہلے آزماتا ہے کنویں سے جیل خانے تک
پھراس کے بعد قدموں میں وزارت ڈال دیتا ہے

نہتے بدر والوں کو مثالِ بدر چمکا کر
زمیں پر 313 کی ہیبت ڈال دیتا ہے

بڑھانے پر جو آجائے وہ رتبہ صنفِ نازک کا
ریاست ماں کے قدموں میں وہ جنت ڈال دیتا ہے

ریاست علی ریاست

Comments