ایک غزل محبتوں کے نام
چلو کہ آگ دلوں کی بجھا کے دیکھتے ہیں
چراغ پھر سے وفا کے جلا کے دیکھتے ہیں
ہماری راہ بھی شاید یہیں سے کھل جائے
کسی کی راہ کا پتھر ہٹا کے دیکھتے ہیں
فضا میں پھیل رہی ہے عداوتوں کی گھٹن
محبتوں کا کوئی گیت گا کے دیکھتے ہیں
دلوں میں میل نہ بڑھ جائے دور رہنے سے
چلو کہ اب ذرا نزدیک آ کے دیکھتے ہیں
دلوں میں بھر دیں محبت کی آکسیجن جو
کچھ ایسے پودے وفا کے لگا کے دیکھتے ہیں
چلو کہ کام میں لائیں معافیوں کا ربر
نظر کی تختی سے نفرت مٹا کے دیکھتے ہیں
🖋 فرحان دِل ـ مالیگاؤں ـ
Comments
Post a Comment