مجھے بھی یاد ہیں وہ شامِ ہجر کی حکایتیں۔

مجھے بھی یاد ہیں وہ شامِ ہجر کی حکایتیں۔
وہ درد سا رُکا رُکا،وہ اشک سا تھما تھما۔۔۔

خیالِ ربطِ باہمی مجھے بھی ھے اُسے بھی ھے۔
یہ آرزو الگ الگ،یہ مدعا جدا جدا۔۔

فراق گور کھپوری

Comments