خط میں لکھے ہوئے رنجش کے پیام آتے ہیں

خط میں لکھے ہوئے رنجش کے پیام آتے ہیں
کس قیامت سے یہ نامے میرے نام آتے ہیں
رسمِ تحریر ہی مٹ جائے یہ حقیقت ہے
تیرے خط میں مجھے غیروں کے سلام آتے ہیں

Comments