مَیں رت جگوں کو جھیل کے جب مِیؔر بن گیا

*شاعر.... مرحوم عبدالسلام اظہر مالیگانوی*

📓📜📖📓📜📖📓📜📖📓📜
مَیں رت جگوں کو جھیل کے جب مِیؔر بن گیا
تنکا تھا چشمِ وقت میں شہتِیر بن گیا

جب مَیں میں گم تھا کچھ نہ تھا میری گرفت میں
ٹوٹا حصارِ ذات ہمہ گیر بن گیا

دستِ سکوں خلاء سے بلاتا رہا مگر..!
اك چہرہ میرے پاؤں کی زنجیر بن گیا

حالات لے کے آگئے یہ کیسے موڑ پر ؟
جھونکا صبا کا جلتا ہوا تِیر بن گیا

گل بوٹوں سے وہ کھردرے کاغذ سنوار کر
فن اور لہو کے رشتے کی تفسیر بن گیا

اس درجہ خوف کھاتا ہے سورج سے کیوں وجود
کیا برف پر لکھی ہوئی تحریر بن گیا

مہنگا پڑا لہو کے تقاضوں سے انحراف
اظہؔر لہو اگلنا ہی تقدیر بن گیا

📓📜📖📓📜📖📓📜📖📓📜

Comments