خیالِ یار میں مجھ کو یونہی مدہوش رہنے دو


خیالِ یار میں مجھ کو یونہی مدہوش رہنے دو

نہ پوچھو رات کا قصہ ، مجھے خاموش رہنے دو

سُنایا وصل کا قصہ، تو میرے یار یوں نے بولے

کہاں تم اور کہاں اسکی حسیں آغوش، رہنے دو

مجھے معلوم ھےاس نے میرا ہونا نہیں لیکن

میری امید مت توڑو ، مجھے پر جوش رہنے دو

Comments