کھلا یہ  راز کہ یہ  زندگی  بھی  ہوتی ہے

کھلا یہ  راز کہ یہ  زندگی  بھی  ہوتی ہے
بچھڑ کے تجھ سے ہمیں اب خوشی بھی ہوتی ہے

وہ فون  کر کے  مرا حال  پوچھ  لیتا ہے
نمک حراموں کی کیٹیگری  بھی  ہوتی ہے

مزاج   پوچھنے  والے  مزہ  بھی  لیتے  ہیں
کبھی جو درد میں تھوڑی کمی بھی ہوتی ہے

یہی  تو کھولتی  ہے  دشمنی  کا   دروازہ
خراب  چیز میاں  دوستی بھی ہوتی ہے

تم اپنے قدموں کی رفتار پر بہت خوش ہو
یہ ریل گاڑی کہیں پر کھڑی بھی ہوتی ہے

حسیب سوزؔ

Comments