فقیروں کی ندا سن کر تو نگر کانپ جاتا ہے
ہوا کے زور سے اکثر سمندر کانپ جاتا ہے
کسی مظلوم کا آنسو بظاہر بوند بھر پانی
اگر پتھر پہ گر جائے تو پتھر کانپ جاتا ہے
سنو تعداد کے بل پر ہمیں للکارنے والو
ہمارے پاؤں کی آہٹ سےلشکر کانپ جاتا ہے
خدا کےنیک بندوں سےمحبت سب کو ہوتی ہے
مجاہد کا بدن چھوتے ہی خنجر کانپ جاتا ہے
Comments
Post a Comment