نقش اپنا مٹا لیا میں نے
راکھ خود کو بنا لیا میں نے
سطر در سطر ذکر تھا اس کا
ہر فسانہ جلا لیا میں نے
جس کی تعمیر نا مکمل تھی
دیکھ وہ گھر گرا لیا میں نے
حسرتوں کو مزار کی صورت
دل کے اندر سجا لیا میں نے
نقش اپنا مٹا لیا میں نے
راکھ خود کو بنا لیا میں نے
سطر در سطر ذکر تھا اس کا
ہر فسانہ جلا لیا میں نے
جس کی تعمیر نا مکمل تھی
دیکھ وہ گھر گرا لیا میں نے
حسرتوں کو مزار کی صورت
دل کے اندر سجا لیا میں نے
Comments
Post a Comment