غم اتنے ملے پھر بھی میں بیمار نہیں ہوں خوش ہوں کہ کسی غم سے بھی بیزار نہیں ہوں

غم اتنے ملے پھر بھی میں بیمار نہیں ہوں
خوش ہوں کہ کسی غم سے بھی بیزار نہیں ہوں
ہروقت نظر رکھتی ہوں میں اپنی انا پر
ہرگز نہ سمجھنا کہ میں بیدار نہیں ہوں
قابو میں سدا رکھتی ہوں میں اپنی زباں کو
رشتوں کو جدا کردے وہ تلوار نہیں ہوں
خوابوں سے حقیقت کا نہیں کوئی بھی رشتہ
بکھرے ہوے خوابوں کا میں انبار نہیں ہوں
میں بانٹتی رہتی ہوں محبت کا خزانہ
انساں کے لئے باعث آزار نہیں ہوں
فطرت ہی میں  شامل ہے مری خلق کی خدمت
کوئی بھی صلے کی میں طلبگار نہیں ہوں
پرواز تخیل کی بلندی کو جو چھولے
میں اتنی بڑی شؔیریں قلم کار نہیں ہوں
رعنا شؔیریں

Comments